سندھ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ہے، وزیر توانائی سندھ
کراچی: وزیر توانائی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت عوام کو کم لاگت اور ماحول دوست توانائی کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج محکمہ توانائی کے دفتر میں نجی کمپنی کی جانب سے سولر ہوم سسٹم، سولر انورٹر لیتھیم بیٹری اور سولر پینل کی ڈیمانٹریشن کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری محکمہ توانائی سی ای او ایس ٹی ڈی سی، ایم ڈی تھرکول انرجی بورڈ کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبے کا پہلا بجلی گھر قائم کیا، جس کی بجلی آج بھی دیگر ذرائع سے فراہم کی جانے والی بجلی کے مقابلے میں سستی ہے۔ یہ بجلی سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (STDC) کے ذریعے متعلقہ اداروں تک پہنچائی گئی۔ وزیر توانائی نے مزید کہا کہ سندھ میں حال ہی میں دو سولر پارک مکمل کیے گئے ہیں جن کی بجلی بھی کم ترین ٹیرف پر فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد فوسل فیول پر انحصار کم کرنا اور صارفین کو مہنگی بجلی سے نجات دلانا ہے۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ “ہم مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کمپنیاں بجلی کے ٹیرف کس بنیاد پر مقرر کر رہی ہیں۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ فوسل فیول سے بننے والی مہنگی بجلی کے بجائے سولر اور ہائبرڈ ذرائع سے بجلی حاصل کی جائے۔” انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ بین الاقوامی معاہدوں کی نوعیت کے باعث بعض رکاوٹیں موجود ہیں، لیکن سندھ حکومت ان پر قابو پانے کے لیے بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔










