بدین ڈی اے پی منصوبے کی تکمیل کے بعد دیگر اضلاع کو بھی ترقی یافتہ اور مضبوط بنایا جائے گا، وزیر ترقیات و منصوبہ بندی سندھ
ڈسٹرکٹ ایڈاپشن منصوبے کے تحت اضلاع میں مقامی کمیونٹی کے روزگار ، فوڈ سیکیورٹی اور پائیدار انفراسٹرکچر کو محفوظ بنایا جائے گا،
سید ناصر حسین شاہ
کراچی: وزیر ترقیات و منصوبہ بندی اور توانائی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ بدین ڈی اے پی پر عملدرآمد کے ذریعے ضلع کو کمزور سے مضبوط اور ترقی پسند ضلع میں تبدیل کیا جائے گا، جو مقامی کمیونٹی کے روزگار، فوڈ سکیورٹی، اور پائیدار انفراسٹرکچر کو تحفظ فراہم کرے گا، جبکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد حکومت سندھ نے ہر ضلع کے لیے ایڈاپیشن پلان تیار کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا، جس میں اے ڈی پی سی اور ورلڈ بینک سمیت دیگر اداروں کے تعاون کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدین ڈسٹرکٹ ایڈاپشین پلان (DAP) کے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کے موقع پر پی اینڈ ڈی سیکریٹریٹ کراچی میں کیا۔ اجلاس میں مختلف سرکاری محکموں کے اعلیٰ حکام شرکت کی اور ایشین ڈیزاسٹر پری پیئرڈنس سینٹر (ADPC) کے تحت تیار کردہ اس منصوبے کو حتمی شکل دینے پر غور کیا گیا جسے ورلڈ بینک کے تعاون سے کیئر فار ساؤتھ ایشیا پراجیکٹ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
وزیر ناصر حسین شاہ نے اے ڈی پی سی کی جامع محنت کو سراہتے ہوئے حکومت سندھ کی جانب سے اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے سالانہ بجٹ سے ہٹ کر بھی مالی وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ دیگر ڈونرز سے بھی اضافی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ بدین ڈی اے پی کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔ اس اقدام کے ذریعے بدین کو ایک کمزور ضلع سے کلائمٹ ریزیلینٹ (موسمیاتی لحاظ سے مضبوط) اور ترقی پسند ضلع میں تبدیل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس میں زراعت، روزگار، عوامی صحت، سماجی تحفظ اور پائیدار انفراسٹرکچر کی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جائے گا۔
اس کے علاوہ وزیر ناصر شاہ نے حیدرآباد کے کمشنر کی نگرانی میں ایک خصوصی یونٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا، جو اس منصوبے پر مؤثر عملدرآمد اور اس کی نگرانی کو یقینی بنائے گا۔ یہ یونٹ پورے معاشرے کے اشتراک سے ضلع بدین کو زیادہ مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے گا۔
اس منصوبے کے جائزے کے لیے ورکنگ گروپ کا قیام محکمہ منصوبہ بندی و ترقی نے بطور سیکریٹریٹ کیا تھا۔ اس منصوبے کا تفصیلی جائزہ کئی اسٹیک ہولڈرز نے کیا، جن میں آبپاشی، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی، زراعت، بلدیات، جنگل



